12

متنازع قانون پر جاری سیاسی کشیدگی نے بھارتی فلم انڈسٹری کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔

پرل آئی ٹی وی لاہور : بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے بعد اس وقت سیاسی و نظریاتی کشیدگی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور بھارت میں سیاسی و مذہبی تقسیم مزید گہری ہوتی نظر آرہی ہے۔

بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (پی جے پی) اور ان کے اتحادی شہریت کے متنازع قانون کی حمایت میں سرگرم ہیں جبکہ کانگریس سمیت بائیں بازو کی جماعتیں اور دیگر طبقات متنازع قانون کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔بالی وڈ کے کئی اداکاروں نے بھی متنازع قانون کی مخالفت کی ہے اور سوارا بھاسکر اور دپیکا پڈوکون طلبہ کے احتجاج میں بھی شریک رہی ہیں۔

الی وڈ کے باکس آفس پر اس وقت اجے دیوگن کی فلم ’تاناجی‘ اور دپیکا پڈوکون کی تیزاب گردی سے متاثرہ لڑکی کی زندگی پر بننے والی فلم ’چھپک‘ ریلیز کی گئی ہیں۔

اجے دیوگن کی فلم ’تاناجی‘ 17 ویں صدی میں جنگِ سنہا گڑھ پر بنائی گئی ہے جس میں مراٹھے، مغل بادشاہ اورنگزیب سے قلعے کا قبضہ چھڑاتے ہیں۔

اس فلم کی نہ صرف ہندو انتہا پسند جماعتیں مکمل طور پر حمایت کررہی ہے بلکہ متعدد ریاستوں میں جہاں بی جے پی حکومت میں ہے، وہاں اسے ٹیکس فری قراد دیا گیا ہے جبکہ متعدد شہروں میں بی جے پی کے رہنماؤں کی جانب سے فلم کے مفت ٹکٹ تقسیم کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب دپیکا پڈوکون کی تیزاب گردی پر بننے والی فلم ’چھپک‘ کی بائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے پذیرائی کی جارہی ہے تاہم اسی نظریاتی و سیاسی کشیدگی کے باعث ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے فلم پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں