22

کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 7025ہوگئی، 135 افراد جاں بحق

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کورونا کے وار جاری ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 497 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 7025 ہوگئی ہے۔ ان میں سے زیر علاج مریضوں کی تعداد 5125 ہے جب کہ 1765 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ 3276 اور سندھ میں 2008 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں 993، بلوچستان میں 303،گلگت بلتستان میں 245، آزاد کشمیر 46 جب کہ اسلام آباد سے 154 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کا شکار 11 افراد دم توڑ گئے۔ سندھ میں 45، پنجاب 36، خیبر پختونخوا 45، بلوچستان میں 5، گلگت بلتستان میں 3 جب کہ اسلام آباد میں ایک مریض جاں بحق ہوا ہے۔پاکستان کورونا پر تحقیق میں سب سے آگے.حکومتی ترجمان، طبی ماہرین اور محققین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں کیلیے موثر ادویات کے حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی تحقیق یہاں ہو رہی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی نے کورونا وائرس کی ویکسین تیار کر لی،65 کروڑ روپے سے پنجاب کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز میں BSL3 لیول کی لیبارٹریاں قائم کی جارہی ہیں جس کے بعد کورونا وائرس کے تشخیصی ٹیسٹ کی صلاحیت 3200 روزانہ سے بڑھ کر 7 ہزار ہوجائیگی۔کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر اُبھری ہوئی پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں